جب مذہب کا جھوٹ سر چڑھ کر بولے

جب مذہب کو جھوٹ کا گورکھ دھندہ بنا دیا جائے۔ اور اس جھوٹ پر اندھوں کی طرح یقین کرنے کو ایمان کا درجہ حاصل ہوجائے اور جھوٹ کی بیاد رکھنے والا رہبر و امام کہلائے تو پھر جس طرح جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے بالکل اسی طرح اس جھوٹ پر ایمان لانے والوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ ملکی انقلابی تبدیلی کے دوران ہزاروں لوگوں کو بے گناہ شاہ ایران سے وابستگی کی بنیاد پر قتل کرنے والے جلّادوں کی پیروی کرنے والے آج کے نئے درندوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کبھی بھی یہ نہیں سوچتے کہ نفرتوں کی بنیاد پر کیا جانے والا قتل عام کل بھی قابل مزّمت تھا اور آج بھی ہے۔ جھوٹے ایرانی رہبر و امام کی ۸ سالہ ہٹ دھرمی کی ایران عراق جنگ کہ جو یقیناً صدام جیسے منحوس و ذلیل شخص نے شروع کی مگر اس کی جنگ بندی کی استداء کو ٹھکرا کر ڈھائی لاکھ ایرانیوں کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے والا آج بھی شعییوں میں معتبر ہے۔ شام میں اپنے سیاسی عظائم کیلئے ایک ڈکٹیٹر کو بھرپور سہارا دیکر آج شام کے مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں اگر امریکہ و عرب ممالک کا ہاتھ ہے تو ایران کے ھاتھ بھی مسلم لہو سے رنگین ہیں۔ ایرانی گماشتے عراق میں گو کہ بے پناہ اثر رکھتے ہیں اور ان کے اثر و وثوق کے باعث سیستانی کھل کے کبھی ایران کے سفاک راہبر کی مخالفت نہٰیں کرتا مگر چند ناعاقبت اندیش آج کل عراق کی ناکامی کا سہرا جعلی ولی فقیہہ سے دوری قرار دیتے ہوئے چاہتے ہیں کہ رہبر ایران کا تسلط عراق
میں بھی قائم ہو جائے۔
گو کہ ایران کی افواج عراق میں موجود ہیں اور مدد گار بھی ہیں داعش کے مقابلے کے لیے مگر کیا لوگ بھول گئے کہ عراق کہ حکومت کو ناکام کرنے میں انہیں ایران پرست مُلّاووں کا ہاتھ تھا۔ عراق ۴۰ فیصد سُنی آبادی کا ملک ہے ۔ یہاں پر شعیہ تسلط وہ بھی صدیوں کی سُنی غلامی کے بعد اتنی آسانی سے ممکن نہ تھا۔ ایک طرف اتحاد بین المسلمین کا دعوی کرنے والا ایران عراق میں پہلے تو امریکہ کی مخالفت کرتا رہا حالآنکہ یہ جانتا تھا کہ امریکہ کی عراق میں موگودگی سے شعیوں کا فائدہ ہے مگر پھر بھی مختلف ملیشیا کے ہاتھ دہشتگردی میں مضبوط کیے۔ سیستانی کی مخلفت کرنے والے مقتدیٰ صدر میں ہوا بھری۔

آج شام میں داعش رقعہ میں اپنا دارالخلافہ بنا چکا ہے۔ دمشق ،میں آج بھی جنگ ہو رہی ہے اور جوّاد نقوی جیسا احمق مولوی لوگوں سے شام کی فتوحات کی خبریں سنا کر بے وقوف بنا رہا ہے۔ کہہ رہا ہے کہ عراق میں ناکامی ولایت سے دوری کی وجہ سے۔ اس جیسے احمق ہی ہیں کہ آج شعیہ ایران سمیت ہر جگہ مشکل کا شکار ہیں۔
شرم کا مقام ہے کہ شعیہ کے جو شہر علم سے وابستگی اور دروازہ شہر علم کے شیدائی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان جھوٹے مکار اور چالاک مولویوں کے ھاتھوں جہالت کی اتّاہ گہرائیوں میں مست ہیں۔
کوئی جسارت نہیں کرتا کہ جاکر انہیں جھوٹے مولویوں کے استادوں کے لکھے قران کے ترجمہ و تفسیر پڑھ لے۔ تفسیر نجف، تفسیر مولانا حسن ظفر نقوی، تفسیر مولانا فرمان علی اور تفسیر علامہ محمد حسین طباطبائی کے یروشلم میں موجود جو القدس کے وہ یہودیوں کا ہے اور مسجد اقصیٰ آسمان کی بلندیوں پر ہے۔ قبلہ بدلنے کا مقصد یہودیوں سے جھگڑا ختم کرنا تھا مگر افسوس کہ آج یہ جھوٹ تمام تر سچُائی کے ثبوتوں کے باوجود عالم شعیت میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
اسی طرح ولی فقہہ وہ جھوٹ کہ جس کا نہ سر نہ پیر۔ مگر یہ جادو کی طرح شعیوں کے دل و دماغ پر چھا گیا ہے۔ نہ وہ یہ جاننا چاہتے کہ آج ایسا کیا ہوا کہ ۱۲۰۰ سال سئ بغیر ولی فقیہہ کے تمام تر پر آشوب حالات میں سرخرو ہو جانے والی قوم کو اس نئے فتنہ کی ضرورت کیوں پڑی؟ نہ یہ جاننا چاہتے کہ اللہ نے تو اطاعت امام فرض کی یہ مولوی کی اطاعت کہاں سے آگئی ؟ کوئی آیت َ کوئی روایت ؟ کوئی حدیث ؟ کوئی قول معصوم ؟
نہیں وقتی سیاسی اُبال لانے لوگوں کو ورغلانے اور بہکانے کی وجہ سے ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ بنی امُیہ کی بنائی ہوئی مسجد کیلئے شعیہ پروانوں کی طرح مرنے کیلئے تیار ہیں مگر ولایت علیؑ میں غیر معصوم کی ملاوٹ کرنے کی بے ہودگی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو کبھی نصیری تو کبھی اخباری کی گالی دینے والے کم ظرف نہ نصیریت کو جانتے ہیں نہ اخباریت کو۔ آج ضرورت ہے کہ شعیت میں جو نئی نئی مذہبی ایجادات کی جارہی ہیں، مولوی کی انانیت اور طاغوطیت قائم کی جارہی ہے اس پر آواز بلند کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہ کرے گا۔

Your comments are appreciated. Emails are not shown or shared.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s